انسان ہی خلافتِ الٰہی کی اہلیت رکھتا ہے
انسان ہی خلافتِ الٰہی کی اہلیت رکھتا ہے
چونکہ انسان ہی اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق ہے جس کے لیے دنیا بنائی اور سجائی گئی ہے، پس یہی اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً
(سورۃ البقرہ: 30)
"میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں۔"
اور اللہ تعالیٰ نے انسان ہی کو اس قابل بنایا ہے اور اسی کو یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کی تجلی کو قبول کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ
(سورۃ التین: 4)
"بلاشبہ ہم نے انسان کو بہترین انداز پر پیدا کیا۔"
اور حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں کہ:
فَاِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ
"بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔"
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
اسی طرح متعدد احادیث میں اس بات کی تعلیم موجود ہے کہ کسی بندے کو چہرہ پر نہ مارو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔
ان احادیث کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی کوئی جسمانی شکل و صورت ہے اور انسان اس کی تصویر یا نقل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تو شان یہ ہے کہ "لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ" (کوئی چیز اس کی مثل نہیں)۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کی ایک دھندلی سی جھلک دکھائی دے رہی ہے جیسا کہ علم، ارادہ، قدرت و اختیار، سماعت و بصارت، رحم و سخاوت وغیرہ انسان سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔
پھر چوں کہ انسان کے تمام اعضا میں اس کے چہرہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس سے اس کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے، نیز محاسن کا مجموعہ ہے اور اکثر حواسِ ظاہری اسی میں سے دکھائی دے رہے ہیں جیسا کہ دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ اسی طرح دوسری خوبیاں یعنی حسن وغیرہ بھی اسی میں سے ظاہر ہو رہی ہیں۔
غرض یہ کہ یہاں صورت سے مراد جسمانی صورت نہیں، بلکہ اس سے مراد معنوی صورت ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفاتِ کاملہ کا مظہر بنایا ہے اور اس میں نائب ہونے کی حیثیت سے یہ استعداد اور صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنی خداداد صلاحیت اور ظرف کے مطابق قبول کر کے اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کرے۔ اور جس شخص میں اس کی محنت اور کوشش اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جس قدر صفاتِ کمال نمایاں ہوں گی کہ اچھے اخلاق زیادہ اور قوت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہوں تو وہ اتنا ہی نیابت اور خلافتِ الٰہی کے منصب کا زیادہ مستحق ہے۔
دینِ فطرت کا بھی وہ رنگ ہے کہ جس پر جس قدر یہ چڑھ جائے وہ اسی قدر اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ میں رنگ جائے گا اور وہ اسی قدر دنیا و آخرت میں فلاح و بہبود پائے گا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
صِبْغَةَ اللّٰہِ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَةً وَّ نَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ
"اللہ تعالیٰ کا رنگ، اور اللہ تعالیٰ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم تو اسی (ایک اللہ) کی بندگی کرتے ہیں۔"
البقرہ
قرآن مجید کی اسی آیتِ کریمہ کا مضمون کسی نے یوں ادا کیا ہے کہ:
تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ
"اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنے اندر پیدا کرو۔"
اور ترمذی کی ایک حدیث میں ان صفات اور اخلاق کے سرچشموں کا کچھ بیان آیا ہے۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ننانوے نام ہیں، جس نے ان کو ضبط کیا اور محفوظ کیا وہ جنت میں جائے گا۔ پھر اس کے بعد اسی حدیث شریف میں ننانوے صفات کا ذکر کیا ہے۔ قرآن مجید نے ان کو اسمائے حسنیٰ کے لقب سے یاد کیا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ اخلاقِ خداوند مندی ہیں جنہیں حاصل کرنے کا حضور اقدس ﷺ نے امت کو حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنے اندر پیدا کرو۔
غرض یہی صفاتِ کاملہ وہ اخلاق ہیں جن کے ذریعہ سے مخلوق کی اخلاقی تکمیل کے لیے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور یہی وہ اخلاق ہیں جن سے انسان سعادت اور مرتبہءِ خلافت پر پہنچتا ہے، کیوں کہ نائب کے اوصاف جب نائب میں جڑ پکڑ لیتے ہیں تب ہی نائب نائب کا نمائندہ اور اس کی طرف سے کار فرما بنتا ہے۔ مثلاً: انجینئر کی نیابت انجینئر، مدرس اور معلم کی نیابت مدرس اور معلم، ترکھان کی نیابت ترکھان ہی کرے گا ورنہ اپنے علم و ہنر سے بیگانے اور جاہل کو کون اپنا خلیفہ بناتا ہے۔
خلاصہ: یہ کہ نیک اخلاق کا منبع اور سرچشمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں جو بندوں کے حق میں عارضی اور عکس کی حیثیت رکھتی ہیں اور جو بندوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف انابت و رجوع اور اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فضل و کرم سے اُن کے اندر اُن کی خداداد استعداد کے بقدر پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ جو شخص جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف انابت اور رجوع کرے گا، اسی قدر اس کے ظرف اور استعداد کے مطابق اس کی طرف اخلاقی کمالات بہہ پڑیں گے، اور جس قدر کوئی خواہشاتِ نفس میں پڑ کر اللہ تعالیٰ سے دور رہے گا اسی قدر اخلاقِ حسنہ سے محروم رہے گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
thenk you for comments