ایمانی صفات

اپنی بد اخلاقیوں کی خبر گیری کے چار طریقے ہیں


 

اپنی بد اخلاقیوں کی خبر گیری کے چار طریقے ہیں

۔ وہ یہ کہ:

ا۔ کسی مرشد کی خدمت میں بیٹھا کریں، تاکہ وہ آپ کو آپ کی بداخلاقیوں پر خبردار کر کے ان کا علاج بھی بتلایا کرے۔

ب۔ کسی مہربان اور صاف گو دوست کو اپنے اوپر نگہبان بنائیں جو ٹھیک ٹھیک آپ کے عیوب بلا کم و کاست بیان کر سکے۔

ج۔ اپنے حق میں دشمن کی بات سنیں، کیوں کہ دشمن کی نظر ہمیشہ عیب پر جاتی ہے۔ اگرچہ وہ دشمنی کی وجہ سے آپ کے کسی عیب میں مبالغہ تو کر سکتا ہے، لیکن اس میں آپ اپنے عیوب تلاش کر سکتے ہیں۔

د۔ جب کسی دوسرے شخص میں کوئی عیب نظر آئے تو اس کام سے خود بچیں اور اپنے پر یہ گمان کریں کہ ایسا میں بھی ہوں، اور پھر اس کا علاج شروع کریں۔

۳۔ اچھے اخلاق پیدا کرنے کا ایک طریقہ اپنے نفس کی مخالفت (اور ضد) ہے۔ غصہ کا علاج بتکلف بردباری کو اختیار کرنا اور بخل کا علاج بتکلف خرچ کرنا ہے۔ اسی طرح جو شخص بتکلف نیک کاموں کی عادت ڈالے گا اس میں اچھے اخلاق پیدا ہو جائیں گے، اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص تکلف سے کسی چیز کی عادت ڈالتا ہے تو وہ بالآخر اس کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔ مثلاً: ابتدا میں لڑکا تعلیم اور مکتب سے بھاگتا ہے لیکن والدین زبردستی اس کو بھیجتے ہیں، پھر مکتب جانا اس کی عادت بن جاتی ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر اسے علم میں مزہ آنے لگتا ہے اور پھر وہ اس سے چھوٹ نہیں سکتا، یا مثلاً: اگر کوئی لکھنا سیکھتا ہے تو ابتدا میں خوب غور و فکر کے ساتھ، محنت و مشقت سے لکھتا ہے، غلط سلط لکیریں کھینچتا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے کہ پھر وہ بلا تکلف لکھتا ہے اور صاف ستھرا بھی لکھتا ہے۔

غرض یہ کہ تکلف سے نیک کام کرتے رہیں (ایسے بتکلف نیک اعمال اور خوش خلقی کرنے کی وجہ سے اجر بھی ملے گا جبکہ نیت اللہ تعالیٰ کی رضا کی ہو، بلکہ ایک حدیث کی رو سے مشقت اٹھا کر عمل پر دو گنا اجر ملتا ہے)، حتیٰ کہ نیک اعمال کی عادت پڑ جائے۔ مثلاً دل نہ چاہے، پھر بھی فقرا پر مال خرچ کرتے رہیں، اس طرح کرنے سے بالآخر دل میں اچھے اخلاق جڑ پکڑ جائیں گے اور پھر بلا تکلف اچھے اور نیک افعال بدن سے نکلنے شروع ہو جائیں گے۔

۴۔ روزانہ نفس کا محاسبہ کر لیا کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ عشا کی نماز کے بعد سونے سے قبل دس پندرہ منٹ یا کم و بیش وقت مقرر کر لیں اور اس میں یہ سوچا کریں کہ آج میں نے کتنی بھلائیاں کی ہیں اور کتنی برائیاں، آج کس کو فائدہ پہنچایا اور کس غرض سے پہنچایا، اللہ کی رضا مقصود تھی یا ریا و شہرت۔ آج کتنی سخاوت کی، کس کس کی غیبت کی اور کس کی چغلی کھائی۔ غرض جو بھی کہا ہے اور جو بھی عمل کیا ہے اس کو یاد کریں، پھر جتنی نیکیاں ہوں ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اے اللہ! میں نیکی کرنے کے قابل اور اہل نہیں تھا، یہ تیرا ہی فضل و کرم ہے کہ تو نے مجھ سے نیکی کرا دی، تو نے ہی میرے دل میں نیکی کرنے کا ارادہ پیدا فرمایا اور تو نے ہی نیکی کرنے کی توفیق دی، اور جتنی برائیاں کی ہیں خواہ ظاہری ہوں (جیسے غیبت، چغلی، جھوٹ، چوری وغیرہ) یا باطنی ہوں (جیسے بدنیتی، حسد، ریا وغیرہ) ان پر دل سے نادم ہو کر توبہ کریں اور ان لوگوں سے معافی مانگ لیں جن کی غیبت کی ہے۔ اور جن جن کا حق مارا ہے ان کو ان کا حق واپس کر دیں یا ان سے معاف کروا لیں۔

۵۔ کبھی بھی قصداً کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر اختیار نہ کریں اور نہ کبھی کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر چھوڑیں، کیوں کہ خیر اور شر کے جدا جدا دو سلسلے ہیں اور ان دونوں میں ایک کڑی اپنی دوسری کڑی سے متصل ہے۔ پہلے پہل انسان کے ہاتھ خیر یا شر کی ادنیٰ اور معمولی سی کڑی آتی ہے، پھر اس کی وجہ سے بعد والی کڑی کی استعداد اور صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بتدریج انسان خیر یا شر کے اعلیٰ اور انتہائی درجہ پر پہنچ کر جنت یا دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے، لہذا کسی خیر یا شر کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، جیسے چھوٹی چنگاری سے بھی بچتے ہیں اور بڑی سے بھی، اسی طرح تھوڑا سا نفع بھی نہیں چھوڑتے اور زیادہ بھی، اور جب کوئی معمولی سی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کر کے اپنے دامن سے گناہ کے داغ کو دھو لینا چاہیے، اور کسی کارِ خیر کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، اس سے آپ کو اعلیٰ سے اعلیٰ خیر کی طرف توفیق ملتی رہے گی۔

۶۔ صحبت بھی اثر رکھتی ہے۔ اچھی صحبت سے اچھے اخلاق پیدا ہو سکتے ہیں، کیوں کہ انسان جس ماحول اور معاشرہ میں رہتا ہے اور جس کے ساتھ محبت و الفت کا تعلق رکھتا ہے اس کی نقل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کے حالات سے آپ بے خبر ہیں تو جن لوگوں کے ساتھ وہ شخص اٹھتا بیٹھتا ہے اور جن کے ساتھ وہ خوش رہتا ہے ان کے حالات معلوم کریں تو اس شخص کو تقریباً اسی طرح پائیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صحبت سے اخلاق پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ بہادروں کی صحبت بزدلوں کے دلوں میں شجاعت پیدا کر سکتی ہے، حتیٰ کہ صحبت سے سخاوت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی حال دوسری صفات کا ہے کہ صحبت اپنا اثر کیے بغیر نہیں رہتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

(سورۃ التوبہ: آیت ۱۱۹)

"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔"

​اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً)

"صالح (نیک) ہم نشیں کی مثال مشک رکھنے والے (عطار) اور برے (ہم نشیں کی مثال) بھٹی دھونکنے والے (لوہار) کی سی ہے۔ پس مشک رکھنے والا تمہیں مشک (مفت) دے دے گا یا تم اس سے خرید لوگے اور یا (اگر مشک کسی صورت میں آپ کے ہاتھ نہیں لگا تو کم از کم) اس کی خوشبو (تو ضرور) تمہیں حاصل ہو جائے گی، اور دھونکنے والا بھٹی کا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا (کم از کم) تمہیں اس سے (دھواں اور گرم ہوا اور) بدبو تولے گی۔" (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

​غرض یہ کہ صحبت اور محبت بہت جلد اثر ہوا کرتی ہے، ان کی اہمیت قرآن و سنت کی رو سے بھی بالکل واضح ہے اور عقل کی رو سے بھی۔ جب صحبت کی اہمیت معلوم ہو گئی تو یاد رکھیں ! تحریر و تقریر، ریڈیو، ٹیلی ویژن حتیٰ کہ مختلف جانوروں سے محبت، ان کو پالنے اور ان پر سواری کرنے کے مختلف اثرات ہوا کرتے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھیے کہ تحریر و تقریر کے حسن اور رنگ بیان کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس تحریر و تقریر والے کے جذبات اور اخلاق کیسے ہیں، کیوں کہ تحریر اور تقریر کنندہ کے جذبات، اخلاق اور اس کے میلانات اس کی تحریر و تقریر میں منتقل ہوتے رہتے ہیں، لہذا نیک، صالح لوگوں کی کتابوں، ان کی باتوں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ان کی ذات سے محبت رکھنے سے اچھے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔

دین اور اچھے اخلاق کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ محبت ہے، کیوں کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے، اس لیے جب نیک اخلاق والے کی محبت میسر ہو، خواہ کسی عالمِ ربانی کی محبت ہو یا کسی سچے اہل اللہ کی محبت ہو، اس کی محبت میں رہا کریں، بلکہ سب سے سہل اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ تصوف کو اختیار کر لیا جائے۔ تصوف اخلاق کی اقسام، ان کے درجات و مراتب، ان کے آثار اور ان کے حاصل کرنے کے ذرائع و اسباب، غرض اس اخلاقی نظام کی تفصیل کا مستقل فن ہے جسے "تزکیہ نفس" اور "تزکیہ اخلاق" بھی کہا جاتا ہے

اس فن کے ماہرین اور حاملین وہ ہیں جو اخلاقی اور روحانی بیماریوں کی ترکیب، مقدار اور تفصیل کو اچھی طرح جانتے ہیں، ایسے لوگوں کو صوفیا کہتے ہیں۔

اگر کوئی آدمی اخلاق کا اعلیٰ درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے سب سے سہل طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی باشرع صوفی اور شیخِ کامل کے سپرد کر دے، پھر وہ جو طریقہ اصلاحِ اخلاق کے لیے بتایا کرے اس پر عمل کیا کرے تو ان شاء اللہ تعالیٰ آسانی سے اخلاق درست ہو جائیں گے، اس کا ذاتی کردار باکمال ہو جائے گا اور وہ ایسا ہی بن جائے گا جیسا کہ ایک مومن کی شایانِ شان ہے۔ چنانچہ وہ پاکباز، نیک چلن، دیانت دار، امانت دار، سخی، شجاع، عادل، رحم دل، صابر، سچا، سچائی کی تصدیق کرنے والا، متوکل، برداشت کرنے والا، عفو و درگزر کرنے والا اور اسی طرح دوسرے اخلاقِ حمیدہ کا حامل ہو جائے گا۔ وہ بے جا غیظ و غضب اور دوسری نفسانی خواہشات کو ضبط میں رکھنے پر قادر ہو گا، تکبر سے پاک ہو گا، فساد، عیب جوئی، بدامنی اور کسی کا مذاق اڑانے اور توہین وغیرہ جیسی برائیوں سے بے نیاز ہو گا۔

اس کے ظاہری اعمال بھی خوبصورت ہوں گے اور اس کا باطن اس سے بھی زیادہ خوش جمال اور باعثِ زینت ہو گا۔ نیز وہ ایسا بھی ہو گا کہ اس کے باطن میں کسی طرح یہ خیال نہیں آئے گا کہ وہ صاحبِ تقویٰ اور بزرگ ہے، کیوں کہ اگر یہ خیال کسی کو آتا ہے تو یہی خیال و دعویٰ، تقویٰ کا لباس تار تار کر کے اس کو تکبر کے خارزار میں برہنہ چھوڑ دیتا ہے۔

اچھے اخلاق کیسے پیدا ہوں گے؟


 

اچھے اخلاق کیسے پیدا ہوں گے؟

۱۔ اول یہ کہ اخلاق کا علم حاصل کیا جائے، کیوں کہ بغیر علم کے انسان افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے، مثلاً: صبر ایک خُلق ہے جس کے دو کنارے ہیں، ایک کنارہ انتہائی بے صبری اور دوسرا کنارہ سخت دلی اور بے فکری ہے۔ تو جس طرح مصیبت کے وقت گریبان پھاڑنے اور بال نوچنے والے کو صابر نہیں بلکہ بے صبر کہا جاتا ہے، اسی طرح اگر کسی پر بہت سی مصیبتیں آئیں اور اس پر غم کا اثر ہی نہ ہو، مثلاً: کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے اور اس کی آنکھ سے آنسو ہی نہ نکلیں، نہ اس کی طبیعت پر اثر ہو اور نہ دل میں غم پیدا ہو، تو ایسے شخص کو بھی صابر نہیں کہا جاتا، بلکہ ایسے شخص کو سخت دل، بے رحم، سرد مہر اور ظالم کہا جاتا ہے۔ جس طرح وہ صبر نہیں، اسی طرح یہ بھی صبر نہیں۔ صبر درمیان میں ہے کہ اثر تو لے، مگر حدود کے اندر رہے، آپے سے باہر نہ ہو، اسے صابر کہیں گے اور حدود جب تک معلوم نہ ہوں تو صبر نہیں کر سکے گا۔

​اسی طرح تواضع ایک اچھا خلق ہے۔ اس کا ایک کنارہ تکبر ہے کہ آدمی بڑا بن کر بولے، اکڑ کر چلے وغیرہ اور دوسرا کنارہ ذلتِ نفس ہے کہ ہر کس و ناکس کے آگے جھکتا پھرے، تو یہ بھی تواضع نہیں اور وہ بھی تواضع نہیں، دونوں کنارے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ درمیان میں تواضع ہے کہ وقار بھی رہے اور تکبر بھی نہ ہو مثلاً: اللہ تعالیٰ کے لیے اللہ کے سامنے جھکنا، کسی ولی اللہ کی تعظیم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کرنا۔ اگر کوئی کسی کی تعظیم اس کی خوشامد کے لیے کرتا ہے تو وہ تواضع نہیں ہوگی بلکہ تملق اور چاپلوسی ہوگی۔ اب کسی ولی اللہ کی تعظیم کرنے کی حدود کیا ہیں، اس کے لیے بھی تعلیم کی ضرورت ہے کہ کہیں تعظیم اور احترام میں شرعی حدود سے نکل نہ جائے۔ تو یہاں نہ تکبر جائز ہے نہ ذلتِ نفس اور نہ شعائر اللہ کی تعظیم میں مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرنا۔ جب تک یہ ساری حدود معلوم نہ ہوں اس وقت تک ایک آدمی خلقِ تواضع کو صحیح طور پر نہیں اپنا سکتا۔

​اسی طرح عفو و درگزر ایک خلق ہے۔ اس کا ایک کنارہ تو یہ ہے کہ کسی کا قصور معاف ہی نہ کرے اور دوسرا کنارہ یہ ہے کہ کوئی حاکم، عادی مجرم اور ظلم پیشہ بدمعاش (جو سختی اور سزا کا مستحق ہے اور سزا و سختی کے بغیر اس کا علاج نہیں ہو سکتا، اُس) کے ساتھ بھی نرمی کرے اور اس کو معاف کرتا رہے، تو یہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور مداہنت ہوگی نہ کہ خوش خلقی، بلکہ یہی عفو و درگزر جب اپنی حد بندی کے خط سے آگے بڑھ جاتا ہے، تو عفو و درگزر نہیں رہتا بلکہ بزدلی اور بے ہمتی بن جاتا ہے۔

​اسی طرح شجاعت انسانی سیرت کا سب سے بڑا وصف ہے، لیکن یہی وصف جب اپنی حد سے گزر جائے تو نہ صرف اس کا حکم بدل جاتا ہے بلکہ وہ شجاعت کے بجائے قہر و غضب اور ظلم و تشدد بن جاتا ہے۔

غرض یہ کہ اخلاق کے لیے پہلی ضرورت اس کی تعلیم ہے تاکہ اس کی شرعی حدود معلوم کی جائیں، اور پھر ان کو اپنے اندر پیدا کرنے کی مشق کی جائے۔

۲۔ اپنے برے اخلاق کو دوسروں سے معلوم کریں، کیوں کہ انسان کو اپنے نفس کی حالت میں اکثر دھوکا ہو جاتا ہے کہ بدخلق شخص بھی اپنے آپ کو خوش اخلاق اور خوب سیرت سمجھنے لگتا ہے، چنانچہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ انسان کو غصہ آجاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے واسطے غصہ آیا جو خوش خلقی کا ثمرہ ہے، یا مثلاً اپنی عبادات اور حالات لوگوں پر ظاہر کرتا رہتا ہے اور نفس یہ دھوکا دے کر مطمئن کر دیتا ہے کہ تم نے تو اس غرض سے اس کا اظہار کیا کہ اور لوگوں کو بھی اس نیک کام کے کرنے میں رغبت ہو جائے۔ اسی طرح یہ نفس بڑے بڑے دھوکے دیا کرتا ہے اور اپنی بداخلاقیوں کو نیک اخلاق کے رنگوں میں پیش کر کے بد اخلاقیوں میں مبتلا رکھتا ہے۔

اچھے اخلاق



اچھے اخلاق

​جس طرح انسان کے جسم کی ترکیب اور اس کے اعضا (ہاتھ، پاؤں اور گوشت پوست وغیرہ) میں اعتدال اور توازن سے اس کی ظاہری صورت اچھی اور حسین ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اس کی اندرونی قوتوں جیسے قوتِ شہوت اور قوتِ غضب وغیرہ کے اعتدال و توازن سے وہ خوش اخلاق اور نیک سیرت بنتا ہے۔ جس قدر اندرونی قوتوں میں اعتدال و توازن ہوگا، اسی قدر اخلاق اچھے پیدا ہوں گے۔ پس جس طرح ظاہری صورتیں اور شکلیں ہیں، کوئی زیادہ خوبصورت ہے تو کوئی کم خوبصورت، اسی طرح اندرونی قوتوں کے اعتدال میں کمی و بیشی کی وجہ سے لوگوں کی سیرتیں متفاوت ہیں، کوئی زیادہ نیک سیرت ہے کوئی کم۔

​تمام دنیا کے اولین و آخرین میں سب سے زیادہ بااخلاق اور خوب سیرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ

یعنی "آپ عظیم الشان اخلاق پر پیدا ہوئے ہیں۔"

​اس کے بعد جس شخص کو حضور اقدس ﷺ کے اخلاق سے جس قدر مناسبت ہوگی اس کو اسی قدر خوب سیرت اور خوش اخلاق کہیں گے اور جس مسلمان کو جس قدر اخلاق میں کمال حاصل ہوگا، اسی قدر اس کو دنیا و آخرت کی سعادت حاصل ہوگی۔ اب رہی یہ بات کہ اچھی عادات کیسے پیدا ہوں گی؟ تو اس کے متعلق چند باتیں عرض کی جاتی ہیں:

انسان ہی خلافتِ الٰہی کی اہلیت رکھتا ہے


 

انسان ہی خلافتِ الٰہی کی اہلیت رکھتا ہے

​چونکہ انسان ہی اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق ہے جس کے لیے دنیا بنائی اور سجائی گئی ہے، پس یہی اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:

اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً

(سورۃ البقرہ: 30)

"میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں۔"


​اور اللہ تعالیٰ نے انسان ہی کو اس قابل بنایا ہے اور اسی کو یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کی تجلی کو قبول کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے متعلق فرماتے ہیں کہ:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ

(سورۃ التین: 4)

"بلاشبہ ہم نے انسان کو بہترین انداز پر پیدا کیا۔"


​اور حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں کہ:

فَاِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ

"بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔"

(صحیح البخاری، صحیح مسلم)


​اسی طرح متعدد احادیث میں اس بات کی تعلیم موجود ہے کہ کسی بندے کو چہرہ پر نہ مارو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔

​ان احادیث کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی کوئی جسمانی شکل و صورت ہے اور انسان اس کی تصویر یا نقل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تو شان یہ ہے کہ "لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ" (کوئی چیز اس کی مثل نہیں)۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کی ایک دھندلی سی جھلک دکھائی دے رہی ہے جیسا کہ علم، ارادہ، قدرت و اختیار، سماعت و بصارت، رحم و سخاوت وغیرہ انسان سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

​پھر چوں کہ انسان کے تمام اعضا میں اس کے چہرہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس سے اس کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے، نیز محاسن کا مجموعہ ہے اور اکثر حواسِ ظاہری اسی میں سے دکھائی دے رہے ہیں جیسا کہ دیکھنا، سننا، سونگھنا وغیرہ۔ اسی طرح دوسری خوبیاں یعنی حسن وغیرہ بھی اسی میں سے ظاہر ہو رہی ہیں۔

​غرض یہ کہ یہاں صورت سے مراد جسمانی صورت نہیں، بلکہ اس سے مراد معنوی صورت ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفاتِ کاملہ کا مظہر بنایا ہے اور اس میں نائب ہونے کی حیثیت سے یہ استعداد اور صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنی خداداد صلاحیت اور ظرف کے مطابق قبول کر کے اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کرے۔ اور جس شخص میں اس کی محنت اور کوشش اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جس قدر صفاتِ کمال نمایاں ہوں گی کہ اچھے اخلاق زیادہ اور قوت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہوں تو وہ اتنا ہی نیابت اور خلافتِ الٰہی کے منصب کا زیادہ مستحق ہے۔

​دینِ فطرت کا بھی وہ رنگ ہے کہ جس پر جس قدر یہ چڑھ جائے وہ اسی قدر اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ میں رنگ جائے گا اور وہ اسی قدر دنیا و آخرت میں فلاح و بہبود پائے گا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

صِبْغَةَ اللّٰہِ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَةً وَّ نَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ

"اللہ تعالیٰ کا رنگ، اور اللہ تعالیٰ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم تو اسی (ایک اللہ) کی بندگی کرتے ہیں۔"

 البقرہ 

قرآن مجید کی اسی آیتِ کریمہ کا مضمون کسی نے یوں ادا کیا ہے کہ:

تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ

"اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنے اندر پیدا کرو۔"

اور ترمذی کی ایک حدیث میں ان صفات اور اخلاق کے سرچشموں کا کچھ بیان آیا ہے۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ننانوے نام ہیں، جس نے ان کو ضبط کیا اور محفوظ کیا وہ جنت میں جائے گا۔ پھر اس کے بعد اسی حدیث شریف میں ننانوے صفات کا ذکر کیا ہے۔ قرآن مجید نے ان کو اسمائے حسنیٰ کے لقب سے یاد کیا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ اخلاقِ خداوند مندی ہیں جنہیں حاصل کرنے کا حضور اقدس ﷺ نے امت کو حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنے اندر پیدا کرو۔

غرض یہی صفاتِ کاملہ وہ اخلاق ہیں جن کے ذریعہ سے مخلوق کی اخلاقی تکمیل کے لیے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور یہی وہ اخلاق ہیں جن سے انسان سعادت اور مرتبہءِ خلافت پر پہنچتا ہے، کیوں کہ نائب کے اوصاف جب نائب میں جڑ پکڑ لیتے ہیں تب ہی نائب نائب کا نمائندہ اور اس کی طرف سے کار فرما بنتا ہے۔ مثلاً: انجینئر کی نیابت انجینئر، مدرس اور معلم کی نیابت مدرس اور معلم، ترکھان کی نیابت ترکھان ہی کرے گا ورنہ اپنے علم و ہنر سے بیگانے اور جاہل کو کون اپنا خلیفہ بناتا ہے۔

خلاصہ: یہ کہ نیک اخلاق کا منبع اور سرچشمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں جو بندوں کے حق میں عارضی اور عکس کی حیثیت رکھتی ہیں اور جو بندوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف انابت و رجوع اور اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فضل و کرم سے اُن کے اندر اُن کی خداداد استعداد کے بقدر پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ جو شخص جس قدر اللہ تعالیٰ کی طرف انابت اور رجوع کرے گا، اسی قدر اس کے ظرف اور استعداد کے مطابق اس کی طرف اخلاقی کمالات بہہ پڑیں گے، اور جس قدر کوئی خواہشاتِ نفس میں پڑ کر اللہ تعالیٰ سے دور رہے گا اسی قدر اخلاقِ حسنہ سے محروم رہے گا۔

اچھے اخلاق کا سرچشمہ

 


اچھے اخلاق کا سرچشمہ

​اچھے اخلاق کا منبع دراصل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات ہیں۔ مخلوق میں جو بھی اخلاقِ حسنہ اور خوبیاں نظر آرہی ہیں وہ درحقیقت اللہ کی صفاتِ کمال کی تجلیاں اور کرشمے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ:

(حُسْنُ الْخُلُقِ خُلُقُ اللهِ الْاَعْظَمِ)

"حسنِ خلق اللہ تعالیٰ کا خلقِ عظیم ہے۔" (المعجم الاوسط)

​لہٰذا صرف وہی اخلاق اچھے اور کریمانہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے عکس اور تجلیاں ہیں، اور جو اخلاق اللہ تعالیٰ کی صفات کے منافی ہیں وہی رذائل اور برے اخلاق ہیں۔ البتہ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ صفات ایسی بھی ہیں جو اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور جن کا تصور بھی دوسرے میں نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اس کا بے مثل، واحد و یکتا اور خالق ہونا، نیز اللہ تعالیٰ کی بعض ایسی جلالی صفات بھی ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کو زیب دیتی ہیں جیسا کہ اس کی کبریائی اور بڑائی وغیرہ۔ اس قسم کی صفات کا بندہ میں کمال یہ ہے کہ ان کے مقابل صفتیں بندہ میں پیدا ہوں۔ مثلاً کبریائی کے مقابلہ میں بندہ میں تواضع اور خاکساری پیدا ہو۔

​جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ اچھے اخلاق دراصل اللہ کی صفاتِ کمال کی تجلیاں ہیں تو اب یہاں یہ بھی سمجھیے کہ انسان ان کو نائب ہونے کی حیثیت سے اپنی استعداد کے مطابق حاصل کر سکتا ہے، مثلاً: رحم ایک خُلق ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے۔ اس وجہ سے وہ رحمن و رحیم ہے۔ لیکن بندہ کو بھی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ وہ بھی اپنے اندر اسی صفتِ رحم کو اپنی استعداد کے مطابق پیدا کرنے کی کوشش کرے اور ہر قابلِ رحم مخلوق کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے۔ خطا و قصور کو معاف کر کے درگزر کرنا اور دوسروں کے عیوب کو چھپانا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور بندہ کو بھی حکم ہے کہ وہ اپنے اندر یہ صفت پیدا کرے۔ علیٰ ہذا القیاس، حلم، جود و کرم، سخاوت، حاجت مندوں کی مدد کرنا، عدل و انصاف کرنا، یہ سب اچھے اخلاق اللہ کی ذاتی صفات ہیں اور بندوں کو بھی حکم ہے کہ وہ بندے ہونے کی حیثیت سے اپنی استعداد کے مطابق ان اخلاق کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

اخلاقِ الٰہی کو اپنے اندر پیدا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان مقامِ الوہیت پر فائز ہو جائے۔ یہ چیز نہ مطلوب ہے نہ ممکن، مقصود یہ ہے کہ انسان حیوانیت کی سطح سے بلند ہو جائے اور حضرتِ حق کے مبدءِ اَفیض سے اخذ و استفادہ کی مسلسل کوشش کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے، انسان کو بھی چاہیے کہ علم و حکمت کے موتیوں سے اپنے دامن کو بھرنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم ہے، انسان بھی اپنے اندر جذبہءِ رأفت و رحمت پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ غنی و کریم ہیں، انسان بھی اپنی طاقت کے مطابق غنی و کرم کے اوصاف سے متصف ہو۔ اللہ تعالیٰ صبور و حلیم ہیں، انسان بھی مقدور بھر حلم و صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ جبار و متکبر ہیں تو انسان پر اس کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ وہ عام طور پر متواضع اور منکسر المزاج ہو، البتہ وہ طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں کمزور اور کم ہمت ثابت نہ ہو اور بد اخلاق و بد عمل قسم کے لوگوں سے مرعوب و متاثر نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ وہ بزا بز دوست اور انتہائی سخت گیر ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں بڑھا ہوا ہو اور اس کی نافرمانی نہ کرے، نیز یہ کہ وہ بھی کفار و مشرکین کے لیے بڑا شدید اور مفسدین کی راہ روکنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ شکر کی قدر کرنے والا اور خطاکاروں کو معاف کرنے والا ہے، انسان کا کام بھی یہ ہونا چاہیے کہ وہ حسنِ سلوک کرنے والوں کا قدردان ہو اور معذرت چاہنے والوں سے درگزر کرے۔ اللہ تعالیٰ کبھی راہِ راست سے انحراف نہیں فرماتے، انسان کا بھی فرض ہے کہ وہ ہمیشہ راہِ حق پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت شانِ کمال رکھتی ہے اور وہ ذات ہر عیب سے پاک اور ہر نقص سے منزہ ہے، لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی اپنی استطاعت اور اپنے دائرہءِ زندگی کو نقائص اور عیوب سے پاک کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرے۔

اسلام کی اخلاقی تعلیم اور آج کل مسلمانوں کی غفلت


 

اسلام کی اخلاقی تعلیم اور آج کل مسلمانوں کی غفلت

​اس میں شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اخلاق کی تفصیلی تعلیم سے دنیا کو عملاً آشنا کیا۔ اخلاق کا علمی، عملی اور عرفانی نظام قائم کر کے عمل کی تدبیریں بتلائیں۔ دنیا کے مذاہب و ملل اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتے، دین اسلام کے پاکیزہ اخلاق اور ان سے پیدا شدہ اعمال ایسے ہیں جن کا نمونہ بن کر رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور اپنے صحابہؓ کو تربیت دے کر ان کو ایسے حسین اخلاق سے آراستہ کیا جس کی وجہ سے جاہلیت اور بد اخلاقی میں ڈوبے ہوئے سرکش عربوں میں اسلام کی روح دوڑ گئی۔ پھر یہ لوگ جہاں بھی گئے وہاں چند آدمیوں نے ملکوں اور قوموں کو اپنی اخلاقی تلوار سے فتح کر لیا۔ چین میں دس سے کم صحابہ تاجروں کی حیثیت سے گئے، مگر آج وہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں۔

​دین اسلام میں اخلاق، صفائی معاملات اور حسنِ معاشرت کی بہت بڑی اہمیت کے باوجود آج کا مسلمان اس سے غافل ہے، بلکہ مسلمانوں میں دین داروں کی اکثریت کا بھی یہ حال ہے کہ عبادات (روزہ، نماز وغیرہ) کی اہمیت تو کسی درجہ میں محسوس کرتے ہیں، مگر اخلاق، معاملات اور معاشرت کے متعلق شریعت کے جو احکام ہیں، ان کی اہمیت کو وہ محسوس نہیں کرتے۔ ان میں بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اخلاق، صفائی معاملات اور معاشرت کے بارے میں آنے والے احکامات کی پابندی صرف بزرگ اور کامل بننے کے لیے ضروری ہے، جبکہ نجات کے لیے تو صرف عبادات یعنی نماز، روزہ وغیرہ کافی ہیں حالانکہ ایسا نہیں، بلکہ دوزخ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لیے جس طرح نماز روزہ ضروری ہیں، اسی طرح برے اخلاق سے بچنا اور اچھے اخلاق کو اپنانا بھی ضروری ہے۔

​قرآن مجید اور احادیث میں جس طرح نماز، روزہ وغیرہ عبادات کی تاکید فرمائی گئی ہے، اسی طرح اچھے اخلاق کی بھی تاکید فرمائی گئی ہے، اور جس طرح نماز روزہ وغیرہ میں سستی کرنے والوں کو عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اسی طرح برے اخلاق پر بھی عذابِ جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ مثلاً: بخل یعنی مال کی ایسی محبت اور دلی تعلق جو خرچ کے موقعوں پر خرچ کرنے میں رکاوٹ بنے، ایک اخلاقی برائی ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

​یعنی "اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے فضل سے نوازا (مال و دولت وغیرہ سے) اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں (یعنی جہاں خرچ کرنا چاہیے وہاں خرچ نہیں کرتے) وہ ہرگز اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ (بخل کرنا) ان کے حق میں کوئی اچھی چیز ہے، بلکہ یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے، قیامت کے دن اس چیز کو، جس کے خرچ کرنے میں وہ بخل کرتے ہیں (عذاب بنا کر) ان کے گلے کا طوق بنایا جائے گا۔" (سورہ آل عمران: ۱۸۰)


​اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے تکبر (جو اخلاقی برائی ہے) کے متعلق فرمایا ہے:

​"جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جا سکے گا۔" (مسلم)


​الغرض اخلاق کی اصلاح کا معاملہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ صرف بزرگ اور کامل بننے کے لیے اس کی ضرورت ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہونے اور دوزخ سے بچنے کے لیے جس طرح نماز، روزہ وغیرہ کی ضرورت ہے اسی طرح برے اخلاق کو چھوڑنا اور اچھے اخلاق کو اپنانا بھی ضروری ہے۔

اخلاق کے فضائل


 

اخلاق کے فضائل

مذکورہ بالا بحث سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو گئی کہ انسان کے اعمال اس وقت صالح اور پاکیزہ ہوتے ہیں جب اس کے اخلاق بھی نیک اور پاکیزہ ہوں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ اعمالِ صالحہ، اخلاقِ حسنہ اور نیک جذبات کے پھل پھول اور شاخیں ہیں، اور جس شخص کے اخلاق جس قدر پاکیزہ ہوں گے اسی قدر اس کے اعمال وزنی اور پاکیزہ ہوں گے، چنانچہ:

۱۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بلاشبہ ایک بندہ باوجود عبادت میں کمزور ہونے کے اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے آخرت کے بلند درجات کو پا لیتا ہے (اور منازلِ علیا کو حاصل کر لیتا ہے) اور ایک بندہ عابد ہونے کے باوجود بدخلقی کی وجہ سے جہنم میں جاتا ہے۔" (مجمع الزوائد: ۲۵/۸)

۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(اِنَّ مِنْ خِیَارِكُمْ اَحْسَنَكُمْ اَخْلَاقًا)

"تم میں سے سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔" (بخاری، مسلم)

۳۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ آپ ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں کون زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اَحْسَنُهُمْ اَخْلَاقًا "کہ جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔" (طبرانی)

۴۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ:

"ایمان والوں میں زیادہ ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں۔" (ابوداؤد)

۵۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مسلمان اپنے اچھے اخلاق کے باعث اس شخص کا درجہ حاصل کر لیتا ہے جو ہمیشہ رات کو عبادت میں جاگتا ہے اور دن بھر روزہ رکھتا ہے۔" (ابوداؤد)

۶۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"قیامت کے روز مومن کے میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ فحش بات کرنے والے بدزبان سے بغض رکھتا ہے۔" (ابوداؤد، ترمذی، مشکوٰۃ)

۷۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ:

قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا اُعْطِیَ النَّاسُ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ

"لوگوں کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) جو چیزیں عطا ہوئیں ان میں سب سے بہتر چیز اچھے اخلاق ہیں۔" (نسائی اور احمد وغیرہ)

۸۔ نیز اسلام میں اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ اس سے بھی ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نماز میں جو دعا مانگتے تھے اس کا ایک فقرہ یہ بھی ہوتا تھا:

(وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ)

(وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ)

"اور اے اللہ! تو میری بہتر سے بہتر اخلاق کی طرف رہنمائی کر، تیرے سوا کوئی بہترین اخلاق کی راہ نہیں دکھا سکتا، اور برے اخلاق کو مجھ سے پھیر دے اور ان کو کوئی نہیں پھیر سکتا مگر تو۔" (مسلم)

خلاصہ

خلاصہ یہ ہوا کہ خوش خلقی کو دین میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس کی بدولت انسان زندگی میں قلبی سکون اور خوش گواری کے ساتھ رہے گا اور دوسرے لوگوں کے لیے اس کا وجود رحمت اور چین کا باعث ہو گا اور آخرت میں بھی فلاح و نجات پائے گا۔

اس کے برعکس بد اخلاقی انسان کی زندگی کو لطف و مسرت سے محروم کر دیتی ہے اور جن جن سے اس کا واسطہ اور تعلق ہوتا ہے ان کی زندگیاں بھی بدمزہ اور تلخ ہوں گی۔ دنیا کے بعد جس طرح خوش خلقی کا پھل اور انجام ارحم الراحمین کی رضا اور جنت ہے، اسی طرح اس کے برعکس بد اخلاقی کا انجام اور اس کی سزا اور عتاب قہار کا غضب اور جہنم کا سخت اور رسوا کن عذاب ہے۔

حسنِ خلق کے آثار اور ثمرات


 

حسنِ خلق کے آثار اور ثمرات

​خلاصہ یہ ہوا کہ "حسنِ خلق" انسان کی ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو باطنی امور کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، لیکن کسی انسان میں اس خصلت کا وجود اس کے آثار و ثمرات ہی کے ذریعے ظاہر ہو سکتا ہے، اور باطن کی اس روشنی کا عکس اس کی ظاہری علامات ہی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً: جس شخص کے دل میں رحم ہے تو اس کی مہربانی کسی وقت اور کسی کے ساتھ مخصوص نہ ہوگی، بلکہ ہر قابلِ رحم اور قابلِ شفقت مخلوق کو دیکھ کر خود بخود بلا تکلف اس سے رحم اور شفقت کا عمل ظہور پذیر ہو جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص اتفاقاً عطاء و بخشش اور مہربانی کا کام کرتا ہے اور وہ اس کا کوئی مستقل جذبہ اور باطنی کام کا محرک نہیں تو اس وقت عطاء و بخشش اور مہربانی کا کام اگر نیک نیتی سے ہو تو قابلِ تحسین اور ثواب کا عمل تو ہے لیکن اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ یہ شخص رحم دل، سخی اور کریم النفس ہے۔

​اخلاق کی فضیلت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس کو ظاہری اور قانونی احکامات اور حقوق پر برتری حاصل ہے، کیوں کہ اخلاق سے ہمارے عقائد اور عبادات کی کیفیت اور ظاہری اعمال کی داخلی صورت متعین ہوتی ہے اور اس کے اثرات میں فیصلہ ہو گا کہ ظاہری نیکی کی وجہ سے کہ ایک شخص منافق ہونے کے باوجود اس دنیا میں مسلمانوں میں شمار ہو سکتا ہے، مگر قیامت میں باطن پر فیصلہ ہونے کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں جائے گا۔ العیاذ باللہ۔