اپنی بد اخلاقیوں کی خبر گیری کے چار طریقے ہیں
ا۔ کسی مرشد کی خدمت میں بیٹھا کریں، تاکہ وہ آپ کو آپ کی بداخلاقیوں پر خبردار کر کے ان کا علاج بھی بتلایا کرے۔
ب۔ کسی مہربان اور صاف گو دوست کو اپنے اوپر نگہبان بنائیں جو ٹھیک ٹھیک آپ کے عیوب بلا کم و کاست بیان کر سکے۔
ج۔ اپنے حق میں دشمن کی بات سنیں، کیوں کہ دشمن کی نظر ہمیشہ عیب پر جاتی ہے۔ اگرچہ وہ دشمنی کی وجہ سے آپ کے کسی عیب میں مبالغہ تو کر سکتا ہے، لیکن اس میں آپ اپنے عیوب تلاش کر سکتے ہیں۔
د۔ جب کسی دوسرے شخص میں کوئی عیب نظر آئے تو اس کام سے خود بچیں اور اپنے پر یہ گمان کریں کہ ایسا میں بھی ہوں، اور پھر اس کا علاج شروع کریں۔
۳۔ اچھے اخلاق پیدا کرنے کا ایک طریقہ اپنے نفس کی مخالفت (اور ضد) ہے۔ غصہ کا علاج بتکلف بردباری کو اختیار کرنا اور بخل کا علاج بتکلف خرچ کرنا ہے۔ اسی طرح جو شخص بتکلف نیک کاموں کی عادت ڈالے گا اس میں اچھے اخلاق پیدا ہو جائیں گے، اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص تکلف سے کسی چیز کی عادت ڈالتا ہے تو وہ بالآخر اس کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتی ہے۔ مثلاً: ابتدا میں لڑکا تعلیم اور مکتب سے بھاگتا ہے لیکن والدین زبردستی اس کو بھیجتے ہیں، پھر مکتب جانا اس کی عادت بن جاتی ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر اسے علم میں مزہ آنے لگتا ہے اور پھر وہ اس سے چھوٹ نہیں سکتا، یا مثلاً: اگر کوئی لکھنا سیکھتا ہے تو ابتدا میں خوب غور و فکر کے ساتھ، محنت و مشقت سے لکھتا ہے، غلط سلط لکیریں کھینچتا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے کہ پھر وہ بلا تکلف لکھتا ہے اور صاف ستھرا بھی لکھتا ہے۔
غرض یہ کہ تکلف سے نیک کام کرتے رہیں (ایسے بتکلف نیک اعمال اور خوش خلقی کرنے کی وجہ سے اجر بھی ملے گا جبکہ نیت اللہ تعالیٰ کی رضا کی ہو، بلکہ ایک حدیث کی رو سے مشقت اٹھا کر عمل پر دو گنا اجر ملتا ہے)، حتیٰ کہ نیک اعمال کی عادت پڑ جائے۔ مثلاً دل نہ چاہے، پھر بھی فقرا پر مال خرچ کرتے رہیں، اس طرح کرنے سے بالآخر دل میں اچھے اخلاق جڑ پکڑ جائیں گے اور پھر بلا تکلف اچھے اور نیک افعال بدن سے نکلنے شروع ہو جائیں گے۔
۴۔ روزانہ نفس کا محاسبہ کر لیا کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ عشا کی نماز کے بعد سونے سے قبل دس پندرہ منٹ یا کم و بیش وقت مقرر کر لیں اور اس میں یہ سوچا کریں کہ آج میں نے کتنی بھلائیاں کی ہیں اور کتنی برائیاں، آج کس کو فائدہ پہنچایا اور کس غرض سے پہنچایا، اللہ کی رضا مقصود تھی یا ریا و شہرت۔ آج کتنی سخاوت کی، کس کس کی غیبت کی اور کس کی چغلی کھائی۔ غرض جو بھی کہا ہے اور جو بھی عمل کیا ہے اس کو یاد کریں، پھر جتنی نیکیاں ہوں ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اے اللہ! میں نیکی کرنے کے قابل اور اہل نہیں تھا، یہ تیرا ہی فضل و کرم ہے کہ تو نے مجھ سے نیکی کرا دی، تو نے ہی میرے دل میں نیکی کرنے کا ارادہ پیدا فرمایا اور تو نے ہی نیکی کرنے کی توفیق دی، اور جتنی برائیاں کی ہیں خواہ ظاہری ہوں (جیسے غیبت، چغلی، جھوٹ، چوری وغیرہ) یا باطنی ہوں (جیسے بدنیتی، حسد، ریا وغیرہ) ان پر دل سے نادم ہو کر توبہ کریں اور ان لوگوں سے معافی مانگ لیں جن کی غیبت کی ہے۔ اور جن جن کا حق مارا ہے ان کو ان کا حق واپس کر دیں یا ان سے معاف کروا لیں۔
۵۔ کبھی بھی قصداً کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر اختیار نہ کریں اور نہ کبھی کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر چھوڑیں، کیوں کہ خیر اور شر کے جدا جدا دو سلسلے ہیں اور ان دونوں میں ایک کڑی اپنی دوسری کڑی سے متصل ہے۔ پہلے پہل انسان کے ہاتھ خیر یا شر کی ادنیٰ اور معمولی سی کڑی آتی ہے، پھر اس کی وجہ سے بعد والی کڑی کی استعداد اور صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بتدریج انسان خیر یا شر کے اعلیٰ اور انتہائی درجہ پر پہنچ کر جنت یا دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے، لہذا کسی خیر یا شر کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، جیسے چھوٹی چنگاری سے بھی بچتے ہیں اور بڑی سے بھی، اسی طرح تھوڑا سا نفع بھی نہیں چھوڑتے اور زیادہ بھی، اور جب کوئی معمولی سی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کر کے اپنے دامن سے گناہ کے داغ کو دھو لینا چاہیے، اور کسی کارِ خیر کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے، اس سے آپ کو اعلیٰ سے اعلیٰ خیر کی طرف توفیق ملتی رہے گی۔
۶۔ صحبت بھی اثر رکھتی ہے۔ اچھی صحبت سے اچھے اخلاق پیدا ہو سکتے ہیں، کیوں کہ انسان جس ماحول اور معاشرہ میں رہتا ہے اور جس کے ساتھ محبت و الفت کا تعلق رکھتا ہے اس کی نقل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کے حالات سے آپ بے خبر ہیں تو جن لوگوں کے ساتھ وہ شخص اٹھتا بیٹھتا ہے اور جن کے ساتھ وہ خوش رہتا ہے ان کے حالات معلوم کریں تو اس شخص کو تقریباً اسی طرح پائیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صحبت سے اخلاق پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔ بہادروں کی صحبت بزدلوں کے دلوں میں شجاعت پیدا کر سکتی ہے، حتیٰ کہ صحبت سے سخاوت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی حال دوسری صفات کا ہے کہ صحبت اپنا اثر کیے بغیر نہیں رہتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
(سورۃ التوبہ: آیت ۱۱۹)
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔"
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً)
"صالح (نیک) ہم نشیں کی مثال مشک رکھنے والے (عطار) اور برے (ہم نشیں کی مثال) بھٹی دھونکنے والے (لوہار) کی سی ہے۔ پس مشک رکھنے والا تمہیں مشک (مفت) دے دے گا یا تم اس سے خرید لوگے اور یا (اگر مشک کسی صورت میں آپ کے ہاتھ نہیں لگا تو کم از کم) اس کی خوشبو (تو ضرور) تمہیں حاصل ہو جائے گی، اور دھونکنے والا بھٹی کا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا (کم از کم) تمہیں اس سے (دھواں اور گرم ہوا اور) بدبو تولے گی۔" (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
غرض یہ کہ صحبت اور محبت بہت جلد اثر ہوا کرتی ہے، ان کی اہمیت قرآن و سنت کی رو سے بھی بالکل واضح ہے اور عقل کی رو سے بھی۔ جب صحبت کی اہمیت معلوم ہو گئی تو یاد رکھیں ! تحریر و تقریر، ریڈیو، ٹیلی ویژن حتیٰ کہ مختلف جانوروں سے محبت، ان کو پالنے اور ان پر سواری کرنے کے مختلف اثرات ہوا کرتے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھیے کہ تحریر و تقریر کے حسن اور رنگ بیان کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس تحریر و تقریر والے کے جذبات اور اخلاق کیسے ہیں، کیوں کہ تحریر اور تقریر کنندہ کے جذبات، اخلاق اور اس کے میلانات اس کی تحریر و تقریر میں منتقل ہوتے رہتے ہیں، لہذا نیک، صالح لوگوں کی کتابوں، ان کی باتوں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ان کی ذات سے محبت رکھنے سے اچھے اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔
دین اور اچھے اخلاق کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ محبت ہے، کیوں کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے، اس لیے جب نیک اخلاق والے کی محبت میسر ہو، خواہ کسی عالمِ ربانی کی محبت ہو یا کسی سچے اہل اللہ کی محبت ہو، اس کی محبت میں رہا کریں، بلکہ سب سے سہل اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ تصوف کو اختیار کر لیا جائے۔ تصوف اخلاق کی اقسام، ان کے درجات و مراتب، ان کے آثار اور ان کے حاصل کرنے کے ذرائع و اسباب، غرض اس اخلاقی نظام کی تفصیل کا مستقل فن ہے جسے "تزکیہ نفس" اور "تزکیہ اخلاق" بھی کہا جاتا ہے
اس فن کے ماہرین اور حاملین وہ ہیں جو اخلاقی اور روحانی بیماریوں کی ترکیب، مقدار اور تفصیل کو اچھی طرح جانتے ہیں، ایسے لوگوں کو صوفیا کہتے ہیں۔
اگر کوئی آدمی اخلاق کا اعلیٰ درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے سب سے سہل طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی باشرع صوفی اور شیخِ کامل کے سپرد کر دے، پھر وہ جو طریقہ اصلاحِ اخلاق کے لیے بتایا کرے اس پر عمل کیا کرے تو ان شاء اللہ تعالیٰ آسانی سے اخلاق درست ہو جائیں گے، اس کا ذاتی کردار باکمال ہو جائے گا اور وہ ایسا ہی بن جائے گا جیسا کہ ایک مومن کی شایانِ شان ہے۔ چنانچہ وہ پاکباز، نیک چلن، دیانت دار، امانت دار، سخی، شجاع، عادل، رحم دل، صابر، سچا، سچائی کی تصدیق کرنے والا، متوکل، برداشت کرنے والا، عفو و درگزر کرنے والا اور اسی طرح دوسرے اخلاقِ حمیدہ کا حامل ہو جائے گا۔ وہ بے جا غیظ و غضب اور دوسری نفسانی خواہشات کو ضبط میں رکھنے پر قادر ہو گا، تکبر سے پاک ہو گا، فساد، عیب جوئی، بدامنی اور کسی کا مذاق اڑانے اور توہین وغیرہ جیسی برائیوں سے بے نیاز ہو گا۔
اس کے ظاہری اعمال بھی خوبصورت ہوں گے اور اس کا باطن اس سے بھی زیادہ خوش جمال اور باعثِ زینت ہو گا۔ نیز وہ ایسا بھی ہو گا کہ اس کے باطن میں کسی طرح یہ خیال نہیں آئے گا کہ وہ صاحبِ تقویٰ اور بزرگ ہے، کیوں کہ اگر یہ خیال کسی کو آتا ہے تو یہی خیال و دعویٰ، تقویٰ کا لباس تار تار کر کے اس کو تکبر کے خارزار میں برہنہ چھوڑ دیتا ہے۔







