اچھے اخلاق کا سرچشمہ
اچھے اخلاق کا سرچشمہ
اچھے اخلاق کا منبع دراصل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات ہیں۔ مخلوق میں جو بھی اخلاقِ حسنہ اور خوبیاں نظر آرہی ہیں وہ درحقیقت اللہ کی صفاتِ کمال کی تجلیاں اور کرشمے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ:
(حُسْنُ الْخُلُقِ خُلُقُ اللهِ الْاَعْظَمِ)
"حسنِ خلق اللہ تعالیٰ کا خلقِ عظیم ہے۔" (المعجم الاوسط)
لہٰذا صرف وہی اخلاق اچھے اور کریمانہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے عکس اور تجلیاں ہیں، اور جو اخلاق اللہ تعالیٰ کی صفات کے منافی ہیں وہی رذائل اور برے اخلاق ہیں۔ البتہ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ صفات ایسی بھی ہیں جو اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور جن کا تصور بھی دوسرے میں نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ اس کا بے مثل، واحد و یکتا اور خالق ہونا، نیز اللہ تعالیٰ کی بعض ایسی جلالی صفات بھی ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کو زیب دیتی ہیں جیسا کہ اس کی کبریائی اور بڑائی وغیرہ۔ اس قسم کی صفات کا بندہ میں کمال یہ ہے کہ ان کے مقابل صفتیں بندہ میں پیدا ہوں۔ مثلاً کبریائی کے مقابلہ میں بندہ میں تواضع اور خاکساری پیدا ہو۔
جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ اچھے اخلاق دراصل اللہ کی صفاتِ کمال کی تجلیاں ہیں تو اب یہاں یہ بھی سمجھیے کہ انسان ان کو نائب ہونے کی حیثیت سے اپنی استعداد کے مطابق حاصل کر سکتا ہے، مثلاً: رحم ایک خُلق ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے۔ اس وجہ سے وہ رحمن و رحیم ہے۔ لیکن بندہ کو بھی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ وہ بھی اپنے اندر اسی صفتِ رحم کو اپنی استعداد کے مطابق پیدا کرنے کی کوشش کرے اور ہر قابلِ رحم مخلوق کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے۔ خطا و قصور کو معاف کر کے درگزر کرنا اور دوسروں کے عیوب کو چھپانا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور بندہ کو بھی حکم ہے کہ وہ اپنے اندر یہ صفت پیدا کرے۔ علیٰ ہذا القیاس، حلم، جود و کرم، سخاوت، حاجت مندوں کی مدد کرنا، عدل و انصاف کرنا، یہ سب اچھے اخلاق اللہ کی ذاتی صفات ہیں اور بندوں کو بھی حکم ہے کہ وہ بندے ہونے کی حیثیت سے اپنی استعداد کے مطابق ان اخلاق کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔
اخلاقِ الٰہی کو اپنے اندر پیدا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان مقامِ الوہیت پر فائز ہو جائے۔ یہ چیز نہ مطلوب ہے نہ ممکن، مقصود یہ ہے کہ انسان حیوانیت کی سطح سے بلند ہو جائے اور حضرتِ حق کے مبدءِ اَفیض سے اخذ و استفادہ کی مسلسل کوشش کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے، انسان کو بھی چاہیے کہ علم و حکمت کے موتیوں سے اپنے دامن کو بھرنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم ہے، انسان بھی اپنے اندر جذبہءِ رأفت و رحمت پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ غنی و کریم ہیں، انسان بھی اپنی طاقت کے مطابق غنی و کرم کے اوصاف سے متصف ہو۔ اللہ تعالیٰ صبور و حلیم ہیں، انسان بھی مقدور بھر حلم و صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ جبار و متکبر ہیں تو انسان پر اس کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ وہ عام طور پر متواضع اور منکسر المزاج ہو، البتہ وہ طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں کمزور اور کم ہمت ثابت نہ ہو اور بد اخلاق و بد عمل قسم کے لوگوں سے مرعوب و متاثر نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ وہ بزا بز دوست اور انتہائی سخت گیر ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں بڑھا ہوا ہو اور اس کی نافرمانی نہ کرے، نیز یہ کہ وہ بھی کفار و مشرکین کے لیے بڑا شدید اور مفسدین کی راہ روکنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ شکر کی قدر کرنے والا اور خطاکاروں کو معاف کرنے والا ہے، انسان کا کام بھی یہ ہونا چاہیے کہ وہ حسنِ سلوک کرنے والوں کا قدردان ہو اور معذرت چاہنے والوں سے درگزر کرے۔ اللہ تعالیٰ کبھی راہِ راست سے انحراف نہیں فرماتے، انسان کا بھی فرض ہے کہ وہ ہمیشہ راہِ حق پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت شانِ کمال رکھتی ہے اور وہ ذات ہر عیب سے پاک اور ہر نقص سے منزہ ہے، لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی اپنی استطاعت اور اپنے دائرہءِ زندگی کو نقائص اور عیوب سے پاک کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
thenk you for comments