ایمانی صفات

اسلام کی اخلاقی تعلیم اور آج کل مسلمانوں کی غفلت


 

اسلام کی اخلاقی تعلیم اور آج کل مسلمانوں کی غفلت

​اس میں شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اخلاق کی تفصیلی تعلیم سے دنیا کو عملاً آشنا کیا۔ اخلاق کا علمی، عملی اور عرفانی نظام قائم کر کے عمل کی تدبیریں بتلائیں۔ دنیا کے مذاہب و ملل اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتے، دین اسلام کے پاکیزہ اخلاق اور ان سے پیدا شدہ اعمال ایسے ہیں جن کا نمونہ بن کر رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور اپنے صحابہؓ کو تربیت دے کر ان کو ایسے حسین اخلاق سے آراستہ کیا جس کی وجہ سے جاہلیت اور بد اخلاقی میں ڈوبے ہوئے سرکش عربوں میں اسلام کی روح دوڑ گئی۔ پھر یہ لوگ جہاں بھی گئے وہاں چند آدمیوں نے ملکوں اور قوموں کو اپنی اخلاقی تلوار سے فتح کر لیا۔ چین میں دس سے کم صحابہ تاجروں کی حیثیت سے گئے، مگر آج وہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں۔

​دین اسلام میں اخلاق، صفائی معاملات اور حسنِ معاشرت کی بہت بڑی اہمیت کے باوجود آج کا مسلمان اس سے غافل ہے، بلکہ مسلمانوں میں دین داروں کی اکثریت کا بھی یہ حال ہے کہ عبادات (روزہ، نماز وغیرہ) کی اہمیت تو کسی درجہ میں محسوس کرتے ہیں، مگر اخلاق، معاملات اور معاشرت کے متعلق شریعت کے جو احکام ہیں، ان کی اہمیت کو وہ محسوس نہیں کرتے۔ ان میں بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اخلاق، صفائی معاملات اور معاشرت کے بارے میں آنے والے احکامات کی پابندی صرف بزرگ اور کامل بننے کے لیے ضروری ہے، جبکہ نجات کے لیے تو صرف عبادات یعنی نماز، روزہ وغیرہ کافی ہیں حالانکہ ایسا نہیں، بلکہ دوزخ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لیے جس طرح نماز روزہ ضروری ہیں، اسی طرح برے اخلاق سے بچنا اور اچھے اخلاق کو اپنانا بھی ضروری ہے۔

​قرآن مجید اور احادیث میں جس طرح نماز، روزہ وغیرہ عبادات کی تاکید فرمائی گئی ہے، اسی طرح اچھے اخلاق کی بھی تاکید فرمائی گئی ہے، اور جس طرح نماز روزہ وغیرہ میں سستی کرنے والوں کو عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اسی طرح برے اخلاق پر بھی عذابِ جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ مثلاً: بخل یعنی مال کی ایسی محبت اور دلی تعلق جو خرچ کے موقعوں پر خرچ کرنے میں رکاوٹ بنے، ایک اخلاقی برائی ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

​یعنی "اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے فضل سے نوازا (مال و دولت وغیرہ سے) اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں (یعنی جہاں خرچ کرنا چاہیے وہاں خرچ نہیں کرتے) وہ ہرگز اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ (بخل کرنا) ان کے حق میں کوئی اچھی چیز ہے، بلکہ یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے، قیامت کے دن اس چیز کو، جس کے خرچ کرنے میں وہ بخل کرتے ہیں (عذاب بنا کر) ان کے گلے کا طوق بنایا جائے گا۔" (سورہ آل عمران: ۱۸۰)


​اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے تکبر (جو اخلاقی برائی ہے) کے متعلق فرمایا ہے:

​"جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جا سکے گا۔" (مسلم)


​الغرض اخلاق کی اصلاح کا معاملہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ صرف بزرگ اور کامل بننے کے لیے اس کی ضرورت ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہونے اور دوزخ سے بچنے کے لیے جس طرح نماز، روزہ وغیرہ کی ضرورت ہے اسی طرح برے اخلاق کو چھوڑنا اور اچھے اخلاق کو اپنانا بھی ضروری ہے۔

تبصرے