ایمانی صفات

اچھے اخلاق کیسے پیدا ہوں گے؟


 

اچھے اخلاق کیسے پیدا ہوں گے؟

۱۔ اول یہ کہ اخلاق کا علم حاصل کیا جائے، کیوں کہ بغیر علم کے انسان افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے، مثلاً: صبر ایک خُلق ہے جس کے دو کنارے ہیں، ایک کنارہ انتہائی بے صبری اور دوسرا کنارہ سخت دلی اور بے فکری ہے۔ تو جس طرح مصیبت کے وقت گریبان پھاڑنے اور بال نوچنے والے کو صابر نہیں بلکہ بے صبر کہا جاتا ہے، اسی طرح اگر کسی پر بہت سی مصیبتیں آئیں اور اس پر غم کا اثر ہی نہ ہو، مثلاً: کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے اور اس کی آنکھ سے آنسو ہی نہ نکلیں، نہ اس کی طبیعت پر اثر ہو اور نہ دل میں غم پیدا ہو، تو ایسے شخص کو بھی صابر نہیں کہا جاتا، بلکہ ایسے شخص کو سخت دل، بے رحم، سرد مہر اور ظالم کہا جاتا ہے۔ جس طرح وہ صبر نہیں، اسی طرح یہ بھی صبر نہیں۔ صبر درمیان میں ہے کہ اثر تو لے، مگر حدود کے اندر رہے، آپے سے باہر نہ ہو، اسے صابر کہیں گے اور حدود جب تک معلوم نہ ہوں تو صبر نہیں کر سکے گا۔

​اسی طرح تواضع ایک اچھا خلق ہے۔ اس کا ایک کنارہ تکبر ہے کہ آدمی بڑا بن کر بولے، اکڑ کر چلے وغیرہ اور دوسرا کنارہ ذلتِ نفس ہے کہ ہر کس و ناکس کے آگے جھکتا پھرے، تو یہ بھی تواضع نہیں اور وہ بھی تواضع نہیں، دونوں کنارے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ درمیان میں تواضع ہے کہ وقار بھی رہے اور تکبر بھی نہ ہو مثلاً: اللہ تعالیٰ کے لیے اللہ کے سامنے جھکنا، کسی ولی اللہ کی تعظیم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کرنا۔ اگر کوئی کسی کی تعظیم اس کی خوشامد کے لیے کرتا ہے تو وہ تواضع نہیں ہوگی بلکہ تملق اور چاپلوسی ہوگی۔ اب کسی ولی اللہ کی تعظیم کرنے کی حدود کیا ہیں، اس کے لیے بھی تعلیم کی ضرورت ہے کہ کہیں تعظیم اور احترام میں شرعی حدود سے نکل نہ جائے۔ تو یہاں نہ تکبر جائز ہے نہ ذلتِ نفس اور نہ شعائر اللہ کی تعظیم میں مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرنا۔ جب تک یہ ساری حدود معلوم نہ ہوں اس وقت تک ایک آدمی خلقِ تواضع کو صحیح طور پر نہیں اپنا سکتا۔

​اسی طرح عفو و درگزر ایک خلق ہے۔ اس کا ایک کنارہ تو یہ ہے کہ کسی کا قصور معاف ہی نہ کرے اور دوسرا کنارہ یہ ہے کہ کوئی حاکم، عادی مجرم اور ظلم پیشہ بدمعاش (جو سختی اور سزا کا مستحق ہے اور سزا و سختی کے بغیر اس کا علاج نہیں ہو سکتا، اُس) کے ساتھ بھی نرمی کرے اور اس کو معاف کرتا رہے، تو یہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور مداہنت ہوگی نہ کہ خوش خلقی، بلکہ یہی عفو و درگزر جب اپنی حد بندی کے خط سے آگے بڑھ جاتا ہے، تو عفو و درگزر نہیں رہتا بلکہ بزدلی اور بے ہمتی بن جاتا ہے۔

​اسی طرح شجاعت انسانی سیرت کا سب سے بڑا وصف ہے، لیکن یہی وصف جب اپنی حد سے گزر جائے تو نہ صرف اس کا حکم بدل جاتا ہے بلکہ وہ شجاعت کے بجائے قہر و غضب اور ظلم و تشدد بن جاتا ہے۔

غرض یہ کہ اخلاق کے لیے پہلی ضرورت اس کی تعلیم ہے تاکہ اس کی شرعی حدود معلوم کی جائیں، اور پھر ان کو اپنے اندر پیدا کرنے کی مشق کی جائے۔

۲۔ اپنے برے اخلاق کو دوسروں سے معلوم کریں، کیوں کہ انسان کو اپنے نفس کی حالت میں اکثر دھوکا ہو جاتا ہے کہ بدخلق شخص بھی اپنے آپ کو خوش اخلاق اور خوب سیرت سمجھنے لگتا ہے، چنانچہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ انسان کو غصہ آجاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے واسطے غصہ آیا جو خوش خلقی کا ثمرہ ہے، یا مثلاً اپنی عبادات اور حالات لوگوں پر ظاہر کرتا رہتا ہے اور نفس یہ دھوکا دے کر مطمئن کر دیتا ہے کہ تم نے تو اس غرض سے اس کا اظہار کیا کہ اور لوگوں کو بھی اس نیک کام کے کرنے میں رغبت ہو جائے۔ اسی طرح یہ نفس بڑے بڑے دھوکے دیا کرتا ہے اور اپنی بداخلاقیوں کو نیک اخلاق کے رنگوں میں پیش کر کے بد اخلاقیوں میں مبتلا رکھتا ہے۔

تبصرے