اچھے اخلاق
اچھے اخلاق
جس طرح انسان کے جسم کی ترکیب اور اس کے اعضا (ہاتھ، پاؤں اور گوشت پوست وغیرہ) میں اعتدال اور توازن سے اس کی ظاہری صورت اچھی اور حسین ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اس کی اندرونی قوتوں جیسے قوتِ شہوت اور قوتِ غضب وغیرہ کے اعتدال و توازن سے وہ خوش اخلاق اور نیک سیرت بنتا ہے۔ جس قدر اندرونی قوتوں میں اعتدال و توازن ہوگا، اسی قدر اخلاق اچھے پیدا ہوں گے۔ پس جس طرح ظاہری صورتیں اور شکلیں ہیں، کوئی زیادہ خوبصورت ہے تو کوئی کم خوبصورت، اسی طرح اندرونی قوتوں کے اعتدال میں کمی و بیشی کی وجہ سے لوگوں کی سیرتیں متفاوت ہیں، کوئی زیادہ نیک سیرت ہے کوئی کم۔
تمام دنیا کے اولین و آخرین میں سب سے زیادہ بااخلاق اور خوب سیرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ
یعنی "آپ عظیم الشان اخلاق پر پیدا ہوئے ہیں۔"
اس کے بعد جس شخص کو حضور اقدس ﷺ کے اخلاق سے جس قدر مناسبت ہوگی اس کو اسی قدر خوب سیرت اور خوش اخلاق کہیں گے اور جس مسلمان کو جس قدر اخلاق میں کمال حاصل ہوگا، اسی قدر اس کو دنیا و آخرت کی سعادت حاصل ہوگی۔ اب رہی یہ بات کہ اچھی عادات کیسے پیدا ہوں گی؟ تو اس کے متعلق چند باتیں عرض کی جاتی ہیں:

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں