اخلاق کے فضائل
مذکورہ بالا بحث سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو گئی کہ انسان کے اعمال اس وقت صالح اور پاکیزہ ہوتے ہیں جب اس کے اخلاق بھی نیک اور پاکیزہ ہوں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ اعمالِ صالحہ، اخلاقِ حسنہ اور نیک جذبات کے پھل پھول اور شاخیں ہیں، اور جس شخص کے اخلاق جس قدر پاکیزہ ہوں گے اسی قدر اس کے اعمال وزنی اور پاکیزہ ہوں گے، چنانچہ:
۱۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بلاشبہ ایک بندہ باوجود عبادت میں کمزور ہونے کے اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے آخرت کے بلند درجات کو پا لیتا ہے (اور منازلِ علیا کو حاصل کر لیتا ہے) اور ایک بندہ عابد ہونے کے باوجود بدخلقی کی وجہ سے جہنم میں جاتا ہے۔" (مجمع الزوائد: ۲۵/۸)
۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(اِنَّ مِنْ خِیَارِكُمْ اَحْسَنَكُمْ اَخْلَاقًا)
"تم میں سے سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔" (بخاری، مسلم)
۳۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ آپ ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں کون زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اَحْسَنُهُمْ اَخْلَاقًا "کہ جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔" (طبرانی)
۴۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ:
"ایمان والوں میں زیادہ ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں۔" (ابوداؤد)
۵۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان اپنے اچھے اخلاق کے باعث اس شخص کا درجہ حاصل کر لیتا ہے جو ہمیشہ رات کو عبادت میں جاگتا ہے اور دن بھر روزہ رکھتا ہے۔" (ابوداؤد)
۶۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے روز مومن کے میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ فحش بات کرنے والے بدزبان سے بغض رکھتا ہے۔" (ابوداؤد، ترمذی، مشکوٰۃ)
۷۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ:
قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا اُعْطِیَ النَّاسُ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ
"لوگوں کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) جو چیزیں عطا ہوئیں ان میں سب سے بہتر چیز اچھے اخلاق ہیں۔" (نسائی اور احمد وغیرہ)
۸۔ نیز اسلام میں اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ اس سے بھی ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نماز میں جو دعا مانگتے تھے اس کا ایک فقرہ یہ بھی ہوتا تھا:
(وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ)
(وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ)
"اور اے اللہ! تو میری بہتر سے بہتر اخلاق کی طرف رہنمائی کر، تیرے سوا کوئی بہترین اخلاق کی راہ نہیں دکھا سکتا، اور برے اخلاق کو مجھ سے پھیر دے اور ان کو کوئی نہیں پھیر سکتا مگر تو۔" (مسلم)
خلاصہ
خلاصہ یہ ہوا کہ خوش خلقی کو دین میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس کی بدولت انسان زندگی میں قلبی سکون اور خوش گواری کے ساتھ رہے گا اور دوسرے لوگوں کے لیے اس کا وجود رحمت اور چین کا باعث ہو گا اور آخرت میں بھی فلاح و نجات پائے گا۔
اس کے برعکس بد اخلاقی انسان کی زندگی کو لطف و مسرت سے محروم کر دیتی ہے اور جن جن سے اس کا واسطہ اور تعلق ہوتا ہے ان کی زندگیاں بھی بدمزہ اور تلخ ہوں گی۔ دنیا کے بعد جس طرح خوش خلقی کا پھل اور انجام ارحم الراحمین کی رضا اور جنت ہے، اسی طرح اس کے برعکس بد اخلاقی کا انجام اور اس کی سزا اور عتاب قہار کا غضب اور جہنم کا سخت اور رسوا کن عذاب ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں