حسنِ خلق کے آثار اور ثمرات
حسنِ خلق کے آثار اور ثمرات
خلاصہ یہ ہوا کہ "حسنِ خلق" انسان کی ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو باطنی امور کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، لیکن کسی انسان میں اس خصلت کا وجود اس کے آثار و ثمرات ہی کے ذریعے ظاہر ہو سکتا ہے، اور باطن کی اس روشنی کا عکس اس کی ظاہری علامات ہی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً: جس شخص کے دل میں رحم ہے تو اس کی مہربانی کسی وقت اور کسی کے ساتھ مخصوص نہ ہوگی، بلکہ ہر قابلِ رحم اور قابلِ شفقت مخلوق کو دیکھ کر خود بخود بلا تکلف اس سے رحم اور شفقت کا عمل ظہور پذیر ہو جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص اتفاقاً عطاء و بخشش اور مہربانی کا کام کرتا ہے اور وہ اس کا کوئی مستقل جذبہ اور باطنی کام کا محرک نہیں تو اس وقت عطاء و بخشش اور مہربانی کا کام اگر نیک نیتی سے ہو تو قابلِ تحسین اور ثواب کا عمل تو ہے لیکن اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ یہ شخص رحم دل، سخی اور کریم النفس ہے۔
اخلاق کی فضیلت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس کو ظاہری اور قانونی احکامات اور حقوق پر برتری حاصل ہے، کیوں کہ اخلاق سے ہمارے عقائد اور عبادات کی کیفیت اور ظاہری اعمال کی داخلی صورت متعین ہوتی ہے اور اس کے اثرات میں فیصلہ ہو گا کہ ظاہری نیکی کی وجہ سے کہ ایک شخص منافق ہونے کے باوجود اس دنیا میں مسلمانوں میں شمار ہو سکتا ہے، مگر قیامت میں باطن پر فیصلہ ہونے کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں جائے گا۔ العیاذ باللہ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں