حسنِ خلق کسے کہتے ہیں؟
حسنِ خلق کسے کہتے ہیں؟
حسنِ خلق انسان کے اندر اس مادہ اور قوتِ راسخہ کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اعمالِ صالحہ اور عمدہ کام مسلسل آسانی اور سہولت کے ساتھ کر سکتا ہے، یایوں کہیں کہ جس کی وجہ سے افعالِ جمیلہ اور اچھے و عمدہ کام مسلسل خود بخود وبلا تکلف اس سے صادر ہوتے ہیں۔
حسنِ خلق کی اس تعریف سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ اگر کسی سے اچھے کام کا صدور مسلسل اور بار بار نہیں ہوتا، بلکہ کبھی کبھار اچھے عمل کا صدور ہو جاتا ہے تو یہ حسنِ خلق نہیں کہلایا جاسکتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اچھے اور عمدہ کام تنگ دلی سے بار بار اور مسلسل کرتا ہو تو اس کو بھی اس وقت تک حسنِ خلق نہیں کہا جائے گا جب تک وہ اس کی طبیعتِ ثانیہ نہ بن جائے اور خود بخود بلا تکلف اس سے صادر نہ ہونے لگیں۔
حسنِ خلق کی مذکورہ بالا تعریف سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ کسی اچھے فعل کا کرنا الگ چیز ہے اور کسی اخلاقی مادہ اور جذبہ سے اس کا سرزد ہونا دوسری چیز ہے۔ اگرچہ برے افعال برے اخلاق سے پھوٹتے ہیں جبکہ اعمالِ صالحہ، افعالِ حمیدہ خوب سیرتی اور اچھے اخلاق کے نتائج اور ثمرات ہوتے ہیں، لیکن ظاہری افعال اخلاق نہیں، بلکہ اخلاق وہ باطنی استعداد، تحریک مادہ اور قوتیں ہیں جن سے افعال اور اعمال پھوٹتے ہیں، مثلاً: انسان کے اندر قوتِ باصرہ ہے جو دیکھنے کا جوہر عطا کرتی ہے، البتہ اس جوہر کی دستیابی کے باوجود کبھی کبھار آنکھ کے کسی عارضے کی وجہ سے نظر کام نہیں کرتی اور آدمی نابینا یا کم بینا ہو جاتا ہے۔ پھر جوں ہی وہ عارضہ دور ہوتا ہے تو بینائی واپس آ جاتی ہے۔ اگر خدانخواستہ بنیادی جوہر کا چراغ ہی بجھ جائے تو آنکھ اپنی خوبصورتی اور ظاہری آب و تاب کے باوجود ہمیشہ کے لیے دیکھنے سے محروم رہ جائے گی۔
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ برقی قوت سے پنکھے چلتے ہیں، بلب روشن ہوتے ہیں، ہیٹر گرم ہو کر آگ کا کام دیتے ہیں، فریج میں برف بنتی ہے، لیکن بلب کا روشن ہونا، پنکھے کا چلنا، آگ اور برف، بجلی یعنی برقی قوت نہیں۔ اگر بلب میں کوئی خرابی ہے تو بجلی کی موجودگی کے باوجود وہ روشن نہیں ہوگا، فریج میں خرابی ہے تو اس میں برف نہیں بنے گی، غرض برقی قوت موجود ہے لیکن بلب، پنکھے اور مشینیں وغیرہ اس لیے نہیں چلتی کہ ان میں نقص ہے، یا وہ سرے سے موجود ہی نہیں، اور اگر بجلی اور برقی قوت ہی نہیں تو پنکھے، مشینیں وغیرہ صحیح ہونے کے باوجود نہیں چلیں گی۔ یہ اور بات ہے کہ ان چیزوں کو برقی قوت کے علاوہ دوسری قوتوں سے حاصل کیا جائے، مثلاً روشنی گیس سے حاصل کی، لیکن ایسی صورت میں اس روشنی کے وجود کو برقی قوت کی وجہ سے نہیں مانا جائے گا۔
اسی طرح اخلاق بھی اس تخم اور استعداد کا نام ہے جس سے ہر بھلائی پھوٹتی ہے۔ صرف بھلا کام کرنا خوش خلقی نہیں، مثلاً: مادہ سخاوت سے دینے اور دوسروں کے کام آنے کا عمل پھوٹتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ کوئی کسی کو کوئی چیز دے تو وہ سخی بھی ہو گا۔ اس سے اتنا تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سخاوت کا ایک عمل کیا، لیکن ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ عمل مادہ سخاوت کے بجائے کسی دوسری قوت کے زیر اثر کیا ہو، مثلاً: اس کی مثال لالچ ہو کہ اس شخص کو کچھ دوں گا یا اس کے بچوں کو کچھ دوں گا تو وہ مجھے اس کے بدلے اس سے زیادہ دے گا، یا اس کا یہ عمل حُبِّ جاہ سے پھوٹا ہو۔
کبھی ایسا ہو گا کہ مادۂ سخاوت تو موجود ہو گا، لیکن اس مادہ اور تخم کے ظاہر ہونے کے اسباب مہیانہ ہوں گے، مثلاً: خرچ کرنے کا موقع ہے، لیکن اس کے پاس مال نہیں ہے، یا مثلاً: صبر ایک خُلق ہے جس سے ضبطِ نفس کے افعال تسلیم و رضا ظاہر ہوتے ہیں، لیکن کسی جگہ ضبطِ نفس سے خلقِ صبر پر حکم نہیں لگایا جا سکتا، غرض اگر افعال کا کوئی تحریک مادہ نہ ہو تو فعل سرزد نہیں ہو سکتا۔ افعال کا سرچشمہ درحقیقت دل ہے۔ صبر، شکر، شجاعت، مروت، حیا، غنا وغیرہ نیک خلقی کے مادے ہیں جن کا تعلق دل سے ہے اور افعال ان کے آثار اور نتائج ہیں۔
اسی طرح برے افعال برے اخلاق کے نتائج ضرور ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بظاہر ہر برا کام بد اخلاقی ہو گی۔ مثلاً: ظلم ایک برا تخم ہے جس سے قتل، لوٹ کھسوٹ اور چوری وغیرہ جیسے برے افعال پھوٹتے ہیں۔ اب ایک آدمی کسی کا مال چراتا ہے یا لوٹ لیتا ہے تو یہ ظلم کا اثر اور نتیجہ ضرور ہے، لیکن ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ شخص چوری اور لوٹ مار بھی کرے، اور اس کے اس عمل کا منشا ظلم کے بجائے عدل ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کوئی ظالم شخص کسی کا مال چرا کر یا ڈاکہ ڈال کر لے جائے اور اس مظلوم کو علم ہو جائے کہ میرا مال اس ظالم نے فلاں جگہ چھپا رکھا ہے، تو مظلوم شخص جا کر صرف اپنا ہی مال چرا کر یا لوٹ کر گھر لے آئے۔ ظاہر ہے یہاں چوری یا لوٹ کا فعل تو پایا گیا لیکن ظلم نہ پایا گیا، تو یہ بد خلقی نہیں۔
یہی حال قتل کا ہے۔ ایک ظالم بھی قتل کرتا ہے اور ایک عادل شخص بھی اس ظالم کو قصاص میں قتل کر دیتا ہے۔ چوں کہ پہلے شخص کے قتل کا منشا ظلم ہے تو وہ ظالم ہے، لیکن دوسرے شخص کا قتل کرنا قصاص اور عدل کی وجہ سے ہے، اس لیے یہ دوسرا قتل بد خلقی میں شمار نہیں۔ لہٰذا قتل، چوری، لوٹ کھسوٹ، ڈاکہ زنی وغیرہ جیسے برے افعال بد اخلاقی کے، اور عفو و درگزر کا معاملہ کرنا، مال و دولت کو نیکی کی جگہوں پر خرچ کرنا وغیرہ جیسے اچھے افعال خوش اخلاقی کے آثار ضرور ہیں لیکن کوئی اچھا یا برا فعل خوش خلقی یا بد خلقی نہیں۔
دراصل اخلاق تو ان اصولوں (اور تخم) کو کہتے ہیں جو انسان کے دل میں ہوں اور اخلاقی اعمال ان سے خود بخود پھوٹتے ہوں۔ اچھے اعمال بھی صرف وہی ہوتے ہیں جو نیک مادہ، نیک منشا اور منبع سے پھوٹتے ہیں اور یہی وہ اعمال ہوتے ہیں جو تھوڑا ہونے کے باوجود بہت زیادہ اجر و ثواب رکھتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں