حُسنِ اخلاق دین کا دوسرا نام ہے
اخلاق کا بیان
حُسنِ اخلاق دین کا دوسرا نام ہے
حُسنِ خُلق یا اچھے اور کریمانہ اخلاق دینِ اسلام کا دوسرا نام ہے۔ دینِ اسلام کی ہر تعلیم اور ہر حکم کی بنیاد اخلاق پر ہوتی ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار اور شرک سے بے زاری کا اظہار کرنا ایک کریمانہ خُلق اور شکر ہے۔ پھر جس طرح توحید الٰہی کا عقیدہ رکھنا ایک حقیقت کو ماننا ہے، اسی طرح اس حقیقت کو تسلیم کرنا اور ماننا ایک اخلاقی امر بھی ہے اور اس سے انکار کرنا حقیقت سے انکار اور بداخلاقی ہے، نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اس حقیقت کو مانیں اور اس پر یقین رکھیں کہ خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں بے مثل اور یکتا ہے، ایسی صورت میں وہ اللہ تعالیٰ کے اس حق کو ادا کر کے شکر گزاری کا بھی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جو شخص توحید کا منکر ہے وہ حقیقت سے اعراض کر کے ناشکری اور بدخُلقی میں مبتلا ہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کے اس حق کے اعتبار سے جو بندہ ہونے کی حیثیت سے اس پر عائد ہوتا ہے حق تلفی کا ارتکاب کر کے بے وفائی اور ناشکری جیسی بد اخلاقیوں میں مبتلا ہے۔
یہی حال دوسری تعلیمات و ہدایات، اسلامی عقائد، فرائض، واجبات اور احکامات کا بھی ہے کہ ان کو بجا لانے والا اپنے خالق کے ساتھ وفاداری، اس کی شکر گزاری اور فرمانبرداری کا ثبوت فراہم کر کے کریمانہ اخلاق پر فائز ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی تعلیمات و ہدایات سے منہ موڑ لیتا ہے تو وہ گناہ گار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے خالق و مالک سے بے وفائی، اس کی ناشکری اور نافرمانی جیسی بد اخلاقیوں کے جرم میں مبتلا ہے، لہٰذا جو شخص جس قدر اچھے اخلاق کا مالک ہو گا وہ اسی قدر دینِ اسلام کی تعلیمات پر سختی سے عمل کرتا ہو گا اور وہ دینِ اسلام میں اسی قدر بلند ہو گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ
"بلاشبہ آپ عظیم الشان اخلاقِ کریمانہ پر ہیں۔" (سورۃ القلم: آیت ۴)
آپ ﷺ نے فرمایا:
اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ
"میں تو اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کروں۔" (السنن الکبرٰی للبیہقی)
بہر حال حسنِ اخلاق دین کا دوسرا نام ہے۔ اس کو تین بڑے بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
حقوق: یعنی جس پر اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق یعنی انسانوں، حیوانوں، پرندوں اور بے جان چیزوں کے جو حقوق فرض یا واجب ہیں ان کو پورا کرنا۔ پھر یہی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بہت سی قسموں پر مشتمل ہیں۔مثلاً عقائد ،عبادات اور معاملات وغیرہ پر منقسم ہیں ۔
آداب: کاموں کو اچھے اور عمدہ طریقے سے کرنا اس کو آداب کہتے ہیں جیسے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، پہننے اتارنے وغیرہ کے آداب۔
اخلاق: انسان کی ذاتی چال چلن اور کردار کی اچھائی اور بلندی کو فضائلِ اخلاق کہتے ہیں اور اس کے مقابل کو رذائل یا برے اخلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ وہ قسم ہے جس کو عام اصطلاح میں اخلاق کہتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں